اس کے والد نے اسے بہت مارا اور کمرہ میں بند کر دیا، یہ رات کے وقت گھر سے فرار ہو گیا۔ اس کے والد نے اسے بہت تلاش کیا مگر کہیں پتہ نہ چلا۔ دس سال گزر گئے، بیٹے کے غم میں والدہ کی طبیعت اتنی خراب ہوئی کہ لوکل ڈاکٹرز نے جواب دے دیا۔ آخر کار، والد نے اپنے تمام قیمتی اثاثے اور بھینسیں بیچ کر اسے شہر کے ایک مہنگے پرائیویٹ ہسپتال میں لایا۔
ہسپتال کے انتظارگاہ میں بے چین ہو کر بیٹھے والد کی نظر اچانک ایک نوجوان ڈاکٹر پر پڑی، جو مریضوں کو چیک کر رہا تھا۔ اس کی آنکھیں ایک لمحے کے لیے رک گئیں؛ وہ چہرہ ان کے لیے اجنبی نہیں تھا بلکہ ان کی ہر یاد میں بسا ہوا تھا۔ دس سال پرانی تصویر ان کے سامنے تھی، لیکن اس وقت وہ ایک کمزور، فیل ہونے والا بچہ تھا، اور آج ایک نامور ڈاکٹر۔
شہر آنے کے بعد، اس لڑکے نے دن میں چھوٹی موٹی نوکریاں کیں اور رات کو نائٹ سکول میں تعلیم حاصل کی۔ اس کی محنت رنگ لائی اور اس نے میٹرک اور پھر انٹر پاس کر لیا۔ کچھ نیک دل لوگوں نے اس کی لگن دیکھ کر میڈیکل کالج کی فیس میں مدد کی، اور وہ ایک کامیاب ڈاکٹر بن گیا۔ وہ کبھی اپنے گھر والوں سے رابطہ نہ کر سکا، لیکن دل میں ماں کی یاد ہمیشہ تڑپتی رہی۔
ڈاکٹر نے بھی جب اپنے بوڑھے باپ کی آنکھوں میں دیکھا، تو سب کچھ بھول کر ان کی طرف دوڑا۔ وہ اپنے والد کے قدموں میں گر گیا اور روتے ہوئے معافی مانگی۔ والد نے اسے گلے لگا لیا اور اس پر فخر کیا۔ ڈاکٹر نے فوراً اپنی والدہ کے پاس جا کر انہیں گلے لگا لیا۔ ماں اپنے بیٹے کو زندہ دیکھ کر جلدی ٹھیک ہوگئی۔ ڈاکٹر اپنے والدین کو واپس گاؤں لے جانے کے بجائے اپنے پاس شہر لے آیا

Comments
Post a Comment