استغفر اللہ۔۔۔سرائے عالمگیر کی یہ خاتون اپنے بچوں کی موجودگی میں اپنے عاشق کے ساتھ گلچھڑے۔۔۔

استغفر اللہ۔۔۔سرائے عالمگیر کی یہ خاتون اپنے بچوں کی موجودگی میں اپنے عاشق کے ساتھ گلچھڑے۔۔۔

یااللہ رحم : ایک اور بری خبر ۔۔۔ سرائے عالمگیر کی خاتون کے اپنے بچوں کی موجودگی میں عاشق کے ساتھ گلچھڑے۔۔۔۔ پکڑے جانے پر قیامت برپا کردی ۔۔۔۔۔۔ اس خاتون کی ملاقات کچھ ماہ قبل منڈی بہاؤالدین میں ایک نوجوان کے ساتھ شادی کی تقریب میں ہوئی ، بعد میں دونوں نے فون پر بات چیت شروع کردی جو جلد اتنی بڑھی کہ نیا نویلا عاشق ہر ہفتے خاتون کے گھر ملاقات کے لیے آنے لگا۔
اس خاتون کی شادی 14 سال قبل ہوئی،گیارہ سال کی ایک بیٹی اور آٹھ سال کا ایک بیٹا ہیں ۔۔۔ شوہر صبح کام پر جاتا اور سارا دن اہل خانہ کے لیے رزق کماتا اور رات 10 بجے گھر واپس آتا ۔۔۔۔ چند روز قبل جب شوہر روٹین سےکچھ دیر قبل گھر واپس آیا تو کمرے سے کچھ مشکوک آوازیں آرہی تھیں جبکہ دروازہ اندر سے بند تھا ، خاتون کا عاشق کمرے کے اندر تھا پکڑے جانے کے خوف سے خاتون نے عاشق کو بیڈ کے نیچے چھپا دیا اور دروازہ کھولا ، شوہر نے پوچھا آوازیں کس کی تھیں تو بیوی بولی ،بچوں کے ساتھ باتیں کررہی تھی لیکن شوہر کو تسلی نہ ہوئی اس نے کمرے اور باتھ روم میں دیکھا پھر بیڈ کے نیچے جھانکا تو عاشق نامراد وہاں موجود تھا ۔ اسے گریبان سے پکڑ کر باہر نکالا تو اس نے دھکم پیل شروع کردی ۔اس لڑائی کےدوران عاشق معشوقہ ایک ہو گئے بیوی نےاپنے ہی شوہر کے پیروں پر کوئی چیز ماری جس سے وہ زخمی ہو گیا پھر دونوں نے ملکر خاتون کے شوہر کو گلے میں کسی کپڑے سے پھند۔ہ دے کر ما۔ر ڈالا ، بچے خوفزدہ ہو کر سب کچھ دیکھتے رہے ، واردات کے بعد عاشق نے مقت۔ول کے کپڑے اتارے کیونکہ ان پر خو۔ن کے دھبے لگ چکے تھے اور ان کپڑوں سمیت فرار ہو گیا جبکہ خاتون نے اس دوران دھکم پیل کے دوران بکھرا سامان سیٹ کیا پھر چائے بنا کر پی اور سو گئی صبح لگ بھگ 7 بجے اس نے پولیس کو اطلاع دی کہ میرے شوہر نے حالات سے تنگ آکر پھند۔ہ لگا لیا ہے ۔
پولیس موقع پر پہنچی اور نعش کا معائنہ کیا تو معاملہ مشکوک گزرا ، اس شخص کے پیروں سمیت جسم پر مار پیٹ کے چھوٹے موٹے زخم بھی تھے جبکہ گلے پر پھندے کا نشان تھا ۔ پھند۔ہ لینے والے کے جسم پر زخم کیسے آئے ، بیوی سے پوچھا گیا کیا پہلے آپ کی لڑائی ہوئی ؟ اس نے بتایا میری بالکل لڑائی نہیں ہوئی وہ اپنے مالی حالات سے پریشان تھے، اسکے بعد پولیس نے پہلے تو لیڈیز پولیس افسران کو بلایا تاکہ خاتون سے پوچھ گچھ کریں اور دوسری جانب جدید ٹیکنالوجی سے موبائل ڈیٹا چیک کیا گیا تو ایک شخص کی خاتون کے ساتھ بار بات کالز نمایاں تھیں ۔۔۔خاتون زیادہ دیر اپنے اولین موقف پر قائم نہ رہ سکی اور اس نے اپنے عاشق کے ساتھ ملکر شوہر کو موت کے گھاٹ اتارنے کا اعتراف کر لیا ۔ مزید تحقیقات میں پتہ چلا کہ یہ خاتون کچھ عرصہ قبل اپنے عاشق کے ساتھ بھاگ گئی تھی مگر رشتہ داروں اور پنچایت کے ذریعے خاتون کو دوبارہ اسکے گھر میں بسا دیا گیا ۔ اب اس ہوس کی ماری کے پاس ایک ہی آپشن تھا کہ عاشق کو گھر بلا کر ملاقات کر لیا کرے ۔۔۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق خاتون اور اسکا عاشق دونوں پولیس کی تحویل میں رہے اور اب انہیں چالان کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے ۔۔۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک اسلامی معاشرے میں اس طرح کے واقعات آئے روز رونما کیوں ہو رہے ہیں؟ مونائل اور سوشل میڈیا کو قصور واربنانا تو شاید حماقت ہو گی ۔ اصل وجہ شاید خاندانی نظام کو جدیدیت اور ماڈرن ازم کے نام پر تباہ کرنا ہے ، جن گھروں کے نگران نہ ہوں وہ بھلا محفوظ کیسے رہ سکتے ہیں ۔ اکیلا پن تو عورتوں اور مردوں کا سب سے بڑا دشمن ہوتا ہے ۔۔۔ کیا ہی اچھا ہو کہ معاشرے کی مکمل تباہی اور اسے جنگل بنانے سے روکنے کے لیے ہم سب ملکر خاندانی نظام کو دوبارہ مضبوط کریں ۔ دادا ،دادی ، تایا چچا اور گھرکی دیگر خواتین کی موجودگی کسی عورت یا مرد کو بے مہار ہونے میں سب سے مضبوط رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے ۔۔۔۔ اس حوالے سے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔

Comments