لانڈھی کے علاقے میں پیش آنے والا یہ دل خراش حادثہ پورے شہر کو سوگ میں مبتلا کر گیا، جہاں ایک تیز رفتار ٹرالر نے 25 سالہ بشری کی زندگی چھین لی۔ بشری کا تعلق اوکاڑہ سے تھا اور وہ روزگار کے سلسلے میں کراچی میں مقیم تھی۔ وہ ایک باہمت اور محنتی لڑکی تھی جو خود موٹر سائیکل چلا کر دفتر جایا کرتی تھی۔ حادثے کے روز بھی وہ معمول کے مطابق گھر سے دفتر کے لیے روانہ ہوئی تھی اور اپنی والدہ سے موبائل فون پر بات کرتی ہوئی اسپتال چورنگی کے قریب پہنچی، جہاں اچانک ایک تیز رفتار ٹرالر نے
اسے بری طرح کچل دیا۔ اس المناک تصادم کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ موٹر سائیکل مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور بشری کا جسم شدید طور پر زخمی ہو گیا، جس کے باعث وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق ٹرالر کی رفتار بہت زیادہ تھی اور ڈرائیور نے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔ حادثے کے فوراً بعد ڈرائیور ٹرالر چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گیا، جبکہ سڑک پر ہر طرف چیخ و پکار اور خوف کا عالم تھا۔ راہگیروں نے فوری طور پر پولیس اور ریسکیو اداروں کو اطلاع دی، مگر بشری کو بچایا نہ جا سکا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر شہر میں بھاری گاڑیوں کی بے لگام رفتار اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بشری کے اہلِ خانہ کے لیے یہ سانحہ ناقابلِ برداشت صدمہ بن کر آیا۔ والدہ، جو حادثے کے وقت فون پر بیٹی سے بات کر رہی تھیں، اس خبر کے بعد شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہو گئیں۔ خاندان کا کہنا ہے کہ بشری نہ صرف گھر کی کفالت میں ہاتھ بٹاتی تھی بلکہ اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے دن رات محنت کر رہی تھی۔ ایک لمحے کی غفلت نے ایک ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا اور والدین سے ان کی جوان بیٹی چھین لی۔
شہری حلقوں اور سماجی کارکنوں نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں ٹرالر اور ڈمپر مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے آئے دن قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مفرور ڈرائیور کو فوری گرفتار کیا جائے، متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے اور شہر میں بھاری گاڑیوں کی آمد و رفت کے لیے سخت قوانین نافذ کیے جائیں۔ بشری کا یہ سانحہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی المیہ ہے، جو اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ایسی کہانیاں روز کا معمول بنتی رہیں گی۔

Comments
Post a Comment