اسد پرنس کا ہونڈا 125 آج کل کس کے استعمال میں ہے ؟ سچے واقعات اسد پرنس کو ایم اے او کالج میں داخل کرانیوالے شخص آغا محمود الحسن لودھی کی زبانی : اپنے ایک ولاگ میں آغا لودھی بتاتے ہیں فروری 1994 کی دو تاریخ کو جب اسد پرنس کو انکے گاؤں چک علاؤالدین میں غسل دیا گیا تو اسکے بعد انکی تصویریں بنانے کی کوشش کی گئی ، کئی رشتہ داروں نے کیمروں سے تصویر بنانی چاہی مگر انکی ایک بھی تصویر نہیں بنی ، حالانکہ غسل سے قبل کی انکی کئی تصویریں بن چکی تھی ، انتقال کے باوجود اسد پرنس کے جسم سے لہو جاری رہا ، جب اسد پرنس کے لیے قبر کھودی جارہی تھی تو قبر کے سر والے حصے سے قران مجید ملے ۔۔۔ اب سوال پیدا ہوا کہ اسد پرنس کو اس قبر میں دفن کیا جائے یا کہیں اور قبر کھودی جائے ؟ اس وقت اسد پرنس کے والد سعودی عرب میں مقیم تھے انہوں نے امام کعبہ سے مشورہ کیا تو امام کعبہ نے کچھ دیر بعد بتانے کو کہا ، چند گھنٹوں بعد امام کعبہ نے ہدایت کی کہ متوفی کو اسی جگہ دفن کیا جائے اور قران مجید بھی سر والی طرف موجود رہنے دیے جائیں یوں اسد پرنس کو قران مجید کے ان ضعیف نسخوں کے ساتھ ہی دفن کیا گیا ۔۔۔۔۔آغا لودھی بتاتے ہیں کہ اسد پرنس لاہور آیا تو انہوں نے اسکا ایم اے او کالج میں داخلہ کروایا تھا ، وہ بہت خوبصورت اور معصوم بھولا بھالا سا لڑکا تھا ، برا ہو ان لوگوں کا جنہوں نے جذباتی اسد پرنس کو غلط راستوں کا راہی بنایا ۔۔۔۔ آغا لودھی کو وہ ہونڈا 125 موٹرسائیکل بھی دکھائی گئی جو انکے کزن افتخار جٹ کے پاس ہے اور ان لوگوں نے اس بائیک کو زبردست حالت میں اسد کی نشانی کے طور پر رکھا ہوا ہے اور اسے کبھی کبھار استعمال کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ دعا ہے اللہ کریم اس نوجوان کی غلطیاں گناہ معاف کرے اور اس کی مغفرت فرمائے آمین

Comments
Post a Comment