کراچی کی راتیں ہمیشہ سے شاہنواز کی کمزوری رہی تھیں۔ روشنیوں سے بھرا ہوا شہر، موسیقی کی گونج، مہنگے کلب، اور وہ احساس کہ دنیا اس کے قدموں میں ہے۔ پیسہ، طاقت اور تعلقات—سب کچھ اس کے پاس تھا۔ جو چیز نہیں تھی، وہ تھی دل کا سکون، اور شاید اسی خلا کو وہ ہر رات کسی نئے چہرے میں تلاش کرتا تھا۔
اس رات بھی وہ شہر کے مشہور ترین کلب میں بیٹھا تھا۔ تیز موسیقی، قہقہے، شیشے کے گلاس، اور خوشبوؤں کا ہجوم۔ اچانک اس کی نظر اپنے پیچھے کھڑی ایک ویٹرس پر ٹھہر گئی۔ وہ عام نہیں تھی۔ نہ صرف حسن میں، بلکہ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی خاموشی تھی، جیسے وہ اس شور میں بھی کسی اور دنیا سے جڑی ہو۔ باقی سب لڑکیاں مصنوعی مسکراہٹیں سجائے گھوم رہی تھیں، مگر یہ لڑکی… وہ بس تھی، بنا جتائے۔
شاہنواز کے دل میں ایک عجیب سی خواہش جاگی۔ وہ مینیجر کو اشارہ کر کے قریب بلاتا ہے۔
“مجھے ایک رات کے لیے یہ لڑکی چاہیے،” اس نے پرسکون مگر حاکمانہ انداز میں کہا۔
مینیجر کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ وہ جھجکتے ہوئے بولا،
“سر، آپ جس لڑکی پر بھی ہاتھ رکھیں، ہم حاضر ہیں… مگر یہ لڑکی ایسی نہیں ہے۔”
“ایسی نہیں ہے؟” شاہنواز کی آنکھوں میں غرور کی چمک آ گئی،
“تم جانتے ہو میں کون ہوں؟”
مینیجر نے نظریں جھکا لیں۔
“جانتا ہوں سر… اسی لیے منع کر رہا ہوں۔”
یہ انکار شاہنواز کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ وہ کلب سے تو خاموشی سے نکل آیا، مگر اس کے اندر کچھ ٹوٹ چکا تھا۔ ساری رات وہی چہرہ، وہی آنکھیں، وہی خاموشی اس کے دماغ میں گردش کرتی رہیں۔
اگلے دن اس نے اپنی طاقت استعمال کی۔
شام ڈھلتے ہی وہ لڑکی ایک سنسان سڑک سے گزرتے ہوئے گھر جا رہی تھی کہ ایک گاڑی اس کے پاس آ کر رکی۔ سب کچھ چند لمحوں میں ہوا۔ چیخ، خوف، اور پھر اندھیرا۔
جب اسے ہوش آیا تو وہ ایک بڑے مگر سرد کمرے میں تھی۔ سامنے شاہنواز کھڑا تھا۔
“ڈرنے کی ضرورت نہیں،” اس نے مصنوعی نرمی سے کہا،
“میں تمہیں نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔”
لڑکی نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ اس کی آواز دھیمی مگر پُراعتماد تھی،
“نقصان تو آپ کر چکے ہیں۔”
شاہنواز مسکرایا اور ایک قدم آگے بڑھا۔ جیسے ہی وہ قریب ہوا، اس کی نظر لڑکی کی گردن پر پڑی۔ وہاں… دو گہرے نشان تھے۔ جیسے کسی نے دانتوں سے کاٹ رکھا ہو۔ پر وہ عام زخم نہیں تھے—وہ نشان جیسے وقت سے پرانے ہوں۔
اچانک شاہنواز کے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔
“یہ… یہ کیا ہے؟” اس کی آواز لڑکھڑا گئی۔
لڑکی نے آہستہ سے آنکھیں بند کیں، پھر کھول کر کہا،
“اب دیر ہو چکی ہے۔”
کمرے کی روشنیاں ہلکنے لگیں۔ دیواروں پر سائے رینگنے لگے۔ شاہنواز پیچھے ہٹا، اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
“تم… تم ہو کون؟”
لڑکی کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، مگر اس میں کوئی نرمی نہ تھی۔
“میرا نام عائشہ تھا… ایک وقت میں۔”
اچانک کمرہ بدلنے لگا۔ شاہنواز کو مناظر دکھائی دینے لگے—ایک لڑکی جو برسوں پہلے اسی شہر میں طاقتور مردوں کی ہوس کا شکار بنی، جسے مار کر خاموش کرا دیا گیا، جس کی لاش سمندر میں پھینک دی گئی۔ اور جس کی روح نے چین سے مرنے سے انکار کر دیا۔
“تم… تم مر چکی ہو؟” شاہنواز کی آواز اب کانپ رہی تھی۔
“ہاں،” وہ بولی،
“اور میں ہر اس شخص کے پاس آتی ہوں جو عورت کو چیز سمجھتا ہے۔”
شاہنواز کے ذہن میں وہ تمام چہرے گھومنے لگے جنہیں اس نے کبھی نظرانداز کیا تھا، وہ تمام انکار جنہیں اس نے اپنی طاقت سے کچلا تھا۔
“مجھے معاف کر دو…” وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا،
“میں نہیں جانتا تھا…”
عائشہ کی آنکھوں میں پہلی بار دکھ جھلکا۔
“تم سب یہی کہتے ہو۔”
اس نے آہستہ سے شاہنواز کے قریب آ کر اس کے کان میں کہا،
“میں تمہیں مارنے نہیں آئی… میں تمہیں زندہ چھوڑوں گی۔ مگر اس زندگی کے ساتھ جو تم بھول نہیں سکو گے۔”
اچانک ایک چیخ گونجی—اور پھر خاموشی۔
اگلی صبح شاہنواز اپنے بستر پر پسینے میں شرابور جاگا۔ سب کچھ خواب لگ رہا تھا۔ مگر جیسے ہی وہ اٹھا، اس کی نظر آئینے پر پڑی۔
اس کی گردن پر… وہی دو نشان تھے۔
اس دن کے بعد شاہنواز بدل گیا۔ کلب، طاقت، غرور—سب پیچھے رہ گئے۔ مگر ہر رات، جب وہ آنکھیں بند کرتا، عائشہ کی آواز اس کے کانوں میں گونجتی:
“کچھ نشان مٹتے نہیں… چاہے انسان زندہ ہی کیوں نہ رہ جائے۔”
اور شہر کی راتوں میں، آج بھی، ایک خاموش ویٹرس کی کہانی گردش کرتی ہے—جو منفرد ہے، حسن میں بھی… اور انجام میں بھی۔

Comments
Post a Comment