عاشقی کے چکر میں سفا۔ک ماں نے اپنے تین بچوں کو ما۔ر کر نظر آتش کر دیا

اپنے تینوں بچوں سے محروم ہونے والے رضوان اقبال کا کہنا ہے کہ جب بھی فجر، حرم اور محمد ذکریا کے چہرے ان کی آنکھوں کے سامنے آتے ہیں تو دل ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ روتے ہوئے خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کاش وہ وقت پر

کچھ کر پاتے تو آج ان کے بچے زندہ ہوتے۔ وسطی پنجاب کے ضلع گجرات کی پولیس کے مطابق سرائے عالمگیر کے رہائشی رضوان اقبال کے تین بچوں کے قتل کے الزام میں بچوں کی والدہ سدرہ بشیر اور اس کے مبینہ ساتھی بابر حسین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے دونوں ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا، جہاں عدالت نے چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے تینوں معصوم بچوں کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاشوں کو آگ لگا دی اور پھر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے بھمبر میں ایک ویران پہاڑی مقام پر دفن کر دیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان کی نشاندہی پر بچوں کی لاشیں برآمد کر لی گئیں، جن کا پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد لاشیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔ بعد ازاں جمعرات کے روز بچوں کی تدفین رضوان اقبال کے آبائی گاؤں کے قبرستان میں کی گئی۔

رضوان اقبال، جو پیشے کے اعتبار سے موٹر سائیکل مکینک ہیں، بتاتے ہیں کہ 19 دسمبر کو وہ معمول کے مطابق کام سے واپس گھر پہنچے تو ان کی والدہ نے انہیں بتایا کہ ان کی بیوی بچوں کو ساتھ لے کر یہ کہہ کر گھر سے نکلی تھی کہ وہ بازار سے بچوں کے گرم کپڑے لینے جا رہی ہے اور ایک گھنٹے میں واپس آ جائے گی۔ لیکن جب پانچ گھنٹے گزر گئے اور وہ واپس نہ آئی تو گھر والوں کو تشویش ہونے لگی۔

سات سالہ فجر، چار سالہ حرم اور دو سالہ محمد ذکریا کے لاپتہ ہونے پر رضوان اقبال کا کہنا ہے کہ انہوں نے ابتدا میں اپنی والدہ کو تسلی دی اور کہا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، وہ جلد واپس آ جائیں گے۔ تاہم دل میں بےچینی بڑھتی جا رہی تھی، جس کے بعد وہ خود بازار کی طرف نکل گئے۔

وہ بتاتے ہیں کہ بازار جاتے ہوئے وہ پاگلوں کی طرح ادھر اُدھر دیکھتے رہے، ہر لمحہ یہی سوچ رہے تھے کہ شاید وہ کسی موڑ سے بچوں کے ساتھ نظر آ جائے۔ انہوں نے کئی گھنٹے تلاش میں گزار دیے مگر کوئی سراغ نہ ملا۔

رضوان اقبال کے مطابق وہ دو دن تک مسلسل اپنی بیوی اور بچوں کو تلاش کرتے رہے لیکن کوئی کامیابی نہ ہوئی۔ آخرکار 21 دسمبر کو وہ علاقے کے چند افراد کے ساتھ تھانے گئے اور پولیس کو باقاعدہ درخواست دی۔

پولیس نے 21 دسمبر کو تھانہ صدر سرائے عالمگیر میں رضوان اقبال کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا، جس میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 496-اے شامل کی گئی، جو دھوکہ دہی کے ذریعے شادی یا اغوا سے متعلق ہے۔

گجرات کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عمر فاروق کے مطابق پولیس نے ملزمہ کے زیر استعمال موبائل نمبرز کا ڈیٹا اور لوکیشن حاصل کی، جس سے معلوم ہوا کہ ان کی آخری موجودگی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے بھمبر میں تھی۔

ڈی پی او کے مطابق خاتون کو ٹریس کر کے گرفتار کرنا ایک مشکل مرحلہ تھا، تاہم پولیس کی انٹیلیجنس ٹیم نے کامیابی حاصل کی اور ایک منصوبہ بندی کے تحت ملزمہ کو واپس سرائے عالمگیر کے قریب بلایا گیا، جہاں پہلے سے موجود خفیہ ٹیم نے اسے حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں اس کی نشاندہی پر بابر حسین کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس افسر نے بتایا کہ گرفتاری کے وقت تک بچوں کے بارے میں کوئی واضح معلومات موجود نہیں تھیں۔ ملزمہ کبھی دعویٰ کرتی کہ بچے گوجرانوالہ میں رشتے داروں کے پاس ہیں اور کبھی کہتی کہ انہیں راولپنڈی بھیج دیا گیا ہے۔

چند گھنٹوں کی تفتیش کے بعد، پولیس کے مطابق ملزمہ نے اعتراف کر لیا کہ اس نے بابر حسین کے ساتھ مل کر تینوں بچوں کو قتل کیا، کیونکہ بچوں کی موجودگی ان کی شادی کے راستے میں رکاوٹ بن رہی تھی۔

تفتیش کے دوران جب لاشوں کے بارے میں پوچھا گیا تو ملزمہ نے بتایا کہ بابر حسین کو اس مقام کا علم ہے جہاں لاشیں دفن کی گئی ہیں۔ ملزمان کے بیانات کی روشنی میں پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں شادی کرنا چاہتے تھے، مگر بچوں کو اس منصوبے کی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا گیا۔

ڈی پی او عمر فاروق کے مطابق دورانِ تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ بابر حسین بچوں کو ساتھ لانے پر ناراض تھا۔ اسی تنازع کے دوران دونوں نے مبینہ طور پر بچوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے بچوں کو بڑی مقدار میں فروٹ چاٹ میں نیند کی گولیاں ملا کر دیں۔ جب بچے گہری نیند میں چلے گئے تو تینوں کے گلے دباکر باری باری قتل کیا گیا۔ بعد ازاں لاشوں کو ایک ویران مقام پر جلا دیا گیا تاکہ شناخت ممکن نہ رہے، اور پھر وہیں دفن کر دیا گیا۔

Comments