لاہور(نیوز ڈیسک)سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور دیگر پر مشہور پاکستانی ٹک ٹاک اسٹار علینہ عامر سے منسوب ایک غیر اخلاقی نازیبا ویڈیو تیزی سے گردش کر رہی ہے۔ یہ ویڈیو تقریباً پانچ منٹ سے زیادہ لمبی ہے اور صارفین اسے لنکس کے ذریعے شیئر کر رہے ہیں یا براہ راست پوسٹس میں اپ لوڈ کر رہے ہیں۔
ویڈیو کو جنسی نوعیت کے مواد کے طور پر پروموٹ کیا جا رہا ہے اور بعض صارفین اسے علینہ عامر کی 5:24 منٹ والی ویڈیو کے نام سے شیئر کر رہے ہیں۔
علینہ عامر کا موقف
اداکارہ علینہ عامر نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ ویڈیو جعلی اور اے آئی سے تیار شدہ (ڈیپ فیک) ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ویڈیو ان کی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے بنائی گئی ہے تاکہ انہیں بدنامی کی جا سکے۔
انہوں نے اس مسئلے کو خطرناک رجحان قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور سی سی ڈی پنجاب کے انچارج سہیل ظفر چٹھہ سے اپیل کی ہے کہ اس کے پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
پاکستان میں اے آئی ڈیپ فیک واقعات کا بڑھتا رجحان
یہ واقعہ حالیہ مہینوں میں پاکستان میں سامنے آنے والے اسی طرح کے اے آئی ڈیپ فیک واقعات کی ایک نئی کڑی ہے جن میں دیگر مشہور ٹک ٹاکرز جیسے فاطمہ جتوئی شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی جعلی ویڈیوز اکثر لنک ٹریپ یا ایس ای او اسکیمز کے ذریعے وائرل کی جاتی ہیں تاکہ ویب ٹریفک حاصل کی جا سکے۔
اگرچہ ویڈیو وائرل ہے اور لوگ اسے شیئر کر کے پھیلا رہے ہیں علینہ عامر اور کئی صحافی واضح کر چکے ہیں کہ یہ اصلی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی جعلی ویڈیو ہے۔ عوام سے درخواست ہے کہ اسے دیکھنے یا شیئر کرنے سے گریز کریں کیونکہ اس سے بدنامی، قانونی مسائل اور پرائیویسی کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

Comments
Post a Comment