بیوی نے چومنے کے بہانے شوہر کی زبان کاٹ ڈالی — گھریلو جھگڑا ہولناک شکل اختیار کر گیا

بیوی نے چومنے کے بہانے شوہر کی زبان کاٹ ڈالی — گھریلو جھگڑا ہولناک شکل اختیار کر گیا
ایک افسوسناک اور حیرت انگیز واقعہ حال ہی میں پیش آیا جس نے گھریلو جھگڑوں کی انتہا اور ذہنی دباؤ کے خطرناک نتائج کو ایک بار پھر سب کے سامنے رکھ دیا۔ اطلاع کے مطابق ارم بی بی نامی خاتون نے مبینہ طور پر اپنے شوہر کی زبان اُس وقت کاٹ ڈالی جب وہ اسے پیار کے بہانے بوسہ دینے کے لیے قریب آئی۔

7 ماہ کی شادی، لیکن تعلقات کشیدہ

گھر والوں کے مطابق ارم اور اس کے شوہر کی شادی کو صرف سات ماہ ہی ہوئے تھے۔ ابتدا میں دونوں کے درمیان تعلقات ٹھیک تھے مگر وقت کے ساتھ ساتھ ارم کے مشکوک اور غیر متوازن رویّے نے گھر میں کشیدگی پیدا کر دی۔ معمولی باتوں پر تلخ کلامی، شک کی فضا اور روزمرہ جھگڑے ان کے گھر میں عام تھے۔

شوہر نے کئی بار گھر والوں اور دوستوں سے ارم کے رویّے کی شکایت کی تھی، مگر کسی نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ یہ کشیدگی اتنی آگے بڑھ جائے گی کہ بات جسمانی نقصان تک جا پہنچے گی۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟

اطلاعات کے مطابق جھگڑے کے ایک طویل سلسلے کے بعد دونوں کے درمیان ماحول کچھ دیر کے لیے نارمل ہوا۔ ارم بی بی اپنے شوہر کے پاس آئی اور پیار جتاتے ہوئے اسے چومنے کے لیے جھکی۔ شوہر کو اندازہ بھی نہ تھا کہ اس محبت بھرے لمحے میں ایک ہولناک حملہ اس کا منتظر ہے۔

ارم نے قریب آتے ہی اپنے دانتوں سے شوہر کی زبان کو زور سے کاٹ لیا جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔ گھر والوں نے فوراً اسے اسپتال منتقل کیا جہاں ڈاکٹروں نے خون روکنے اور زخم سنبھالنے کے لیے ہنگامی طبی امداد فراہم کی۔

واقعے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟

پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ارم کا رویہ طویل عرصے سے غیر متوازن تھا۔ شوہر پر بےجا شک، ہر بات پر غصہ اور شدید جارحیت اس کے معمولات میں شامل تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات ذہنی دباؤ، مایوسی، غیر حقیقی خوف یا تعلق میں عدم اعتماد انسان کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

گھریلو جھگڑے کیوں سنگین ہو جاتے ہیں؟

پاکستان میں گھریلو مسائل، عدم برداشت، کمیونیکیشن کی کمی اور غصے پر قابو نہ رکھ پانا اکثر اس نوعیت کے واقعات کو جنم دیتا ہے۔ جب شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے جذبات، تحفظات اور ضروریات کو نظر انداز کرتے ہیں، تو ماحول رفتہ رفتہ زہریلا ہوتا جاتا ہے۔

سماجی پیغام

یہ واقعہ ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ گھریلو جھگڑوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ اگر کسی خاندان میں مستقل جھگڑے، عدم برداشت یا ذہنی دباؤ موجود ہو، تو وقت پر علاج، مشاورت اور گفتگو سے بڑے حادثات کو روکا جا سکتا ہے۔

Comments