جنرل ندیم رضا جی ایچ کیو میں ایک اہم اجلاس کی سربراہی کر رہے تھے تو اُس وقت ایک فائل اُن کے سامنے لائی گئی جس میں۔۔۔۔
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) کہا جاتا ہے کہ جب جنرل ندیم رضا جی ایچ کیو میں ایک اہم اجلاس کی سربراہی کر رہے تھے تو اُس وقت ایک فائل اُن کے سامنے لائی گئی جس میں ایک بڑے سرکاری منصوبے کے بارے میں فوری منظوری درکار تھی۔ فائل میں تمام چیزیں مکمل تھیں، مگر جنرل ندیم رضا نے ایک چھوٹی سی تضاد نوٹ کی—رقم کے حساب میں چند لاکھ کا فرق تھا جو عام نظر سے چھپ سکتا تھا۔
افسران نے بتایا کہ یہ ’معمولی غلطی‘ ہے اور پلان کو فوراً آگے بڑھانے کا دباؤ بھی تھا، مگر جنرل ندیم رضا نے بات کو نظرانداز کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے فائل وہیں روک دی اور کہا:
“معمولی غلطی بھی اگر جان بوجھ کر نظرانداز کی جائے تو وہ غلطی نہیں رہتی، بدعنوانی بن جاتی ہے۔ فوج میں ایک پیسے کا حساب بھی صاف ہونا ضروری ہے۔”
فائل واپس بھیجی گئی، حساب درست کیا گیا، اور جب تک مکمل شفافیت یقینی نہ ہوئی، انہوں نے منظوری نہیں دی۔
اس واقعے کے بعد جی ایچ کیو میں یہی جملہ مشہور ہوگیا کہ:
“جنرل ندیم رضا کے سامنے کوئی غلطی چھپ نہیں سکتی۔”
یہ ان کی اُس اصول پسندی اور سچائی کی مثال تھی جس کی وجہ سے انہیں ہمیشہ ایک دیانتدار اور سیدھے اصولوں پر چلنے والے سپاہی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

Comments
Post a Comment