جنید جمشید مرحوم ایک لیکچر میں بتارہے تھے کہ انہوں نے انگلینڈ میں ایک معروف برینڈ کا سویٹر خریدا چھ ماہ پہن کر سوچا کہ اب پاکستان جارہا ہوں وہاں گرمی کا موسم ہے تو کہاں پہنا جائے گا اسے واپس ہی کر دیتا ہوں۔
قرب و جوار میں اس برینڈ کی آؤٹ لیٹ سرچ کی وہاں جا کر سویٹر کاؤنٹر پر رکھا اور کہا کہ مجھے یہ پسند نہیں میں واپس کرنا چاہتا ہوں انہوں نے پوچھا اس کی خریداری کی رسید میں نے کہا نہیں ہے پھر پوچھا کب لیا تھا جواب دیا یاد نہیں اس نے پوچھا۔۔
آپ تبدیل کرنا چاہیں گے یا ری فنڈ لینا جواب دیا ری فنڈ کر دیں اس نے کہا او کے نو پر اہلم پچاس پاؤنڈ کا خریدا تھا اور اب چھ ماہ بعد پچاس پاؤنڈ واپس مل گئے میں نے جیب میں ڈالے اور دل ہی دل میں خوش ہور ہا تھا کہ صحیح بے وقوف بنایا ہے ان انگریزوں کو پھر کہتے ہیں جب دین کی طرف آیا تو کراچی میں ایک شاپ سے کچھ خریداری کر رہا تھا دوکاندار نے بڑا سا لکھ کر لگایا ہوا تھا کہ خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہو گا خریداری کے دوران دوکاندار کہنے لگا جنید بھائی آپ تبلیغ میں جاتے ہیں میرے کاروبار کی برکت کے لئے دعا کیجئے گا میں نے کہا کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہوں کہ تم ایک کام کر لو تو اللہ بہت برکت دے گا کہنے لگا جی جی بتائیں میں نے کہا یہ جو اتنا بڑا بورڈ لکھ کر لگایا ہوا کہ خریدا ہوا مال واپس نہیں ہو گا یہ اتار دو۔ کہنے لگا نہیں جی یہ تو نہیں اتار سکتا اس طرح تو ہمارا کاروبار نہیں چلے گا جنید جمشید نے دونوں سیر یوز کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ جو کھلے دل سے فروخت کردہ چیزیں واپس لیتے ہیں ان کے سٹور جا کر دیکھیں کتنے وسیع و عریض ہیں اور وہاں کتنا رش ہے۔ اور یہاں جنہوں نے یہ لکھا ہوا ہے ان کی دوکانیں دیکھ لیں کتنی چھوٹی اور کاروبار کتنا محدود ہے۔
رزق اللہ دیتا ہے کوئی کسٹمر نہیں اور اللہ نیت کو دیکھتا ہے اور پھر اس کے مطابق نوازتا ہے۔

Comments
Post a Comment