عمرہ کی ادائیگی کے لیے جانیوالی فیصل آباد کے ایک گاؤں کی تین بزرگ خواتین کو سعودی عدالت نے 25،25 سال قید کی سزاسنا دی
عمرہ کی ادائیگی کے لیے جانیوالی فیصل آباد کے ایک گاؤں کی بزرگ خواتین سعودی عرب میں بڑی مشکل میں پھنس گئیں ، سعودی عدالت نے 25،25 سال قید کی سزا کیوں سنائی اور اب یہ کہاں اور کس حال میں ہیں ۔۔۔۔ ؟
ضلع فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والی خواتین اور دو دیگر افراد افراد کے عمرے کا بندوبست مبینہ طور پر مقامی زمیندار صدام حسین نے کروایا تھا جنھوں نے نہ صرف عمرے کے اخراجات ادا کیے بلکہ پانچوں افراد کو اسلام آباد ایئر پورٹ بھی اپنے خرچے پر بھیجا۔لیکن پاکستان سے روانگی کے صرف ایک ہفتے بعد اِن پانچوں افراد کی سعودی عرب میں گرفتاری کی خبر ملنے پر اُن کے اہلخانہ ہکا بکا رہ گئے۔ اور اُن کی پریشانی اُس وقت مزید بڑھ گئی جب لگ بھگ پانچ ماہ بعد، 17 فروری 2025، کو ان تین خواتین سمیت پانچوں افراد کو من شیات کی سمگ۔لنگ کے الزام میں ایک سعودی عدالت نے پچیس، پچیس سال قید کی سزا کا حکم دے دیا۔سعودی عرب پہنچنے کے بعد ان لوگوں نے ایک ہوٹل میں قیام کیا جہاں اگلی صبح ان افراد کو گل خان نامی شخص ملا، جس کا تعارف صدام حسین کے دوست پر کروایا گیا۔ ایک خاتون کے بیٹے ابرار کہتے ہیں کہ اُس روز اُن کی والدہ نے انھیں بتایا کہ گل خان نے دعویٰ کیا کہ اس کے ہاں 20 برس بعد اولاد ہوئی ہے اور اسی لیے وہ عمرے پر جانے والوں کی خدمت کرنا چاہتے ہیں.
گل خان نے عمرے پر جانے والے افراد سے کہا کہ ’جوتے اور کپڑے آپ لوگوں کے لیے ہیں اور گفٹ پیکٹ میرے ایک دوست آپ سے جدہ ائیر پورٹ پر وصول کر لیں گے۔‘پانچوں افراد نے ابتدا میں یہ چیزیں لینے سے انکار کیا تاہم اِس کے بعد گل خان نے اُن کی صدام حسین سے فون پر بات کروائی جس نے کہا کہ ’ہم آپ کے لیے اتنا کچھ کر رہے ہیں، آپ میرے دوست کا اتنا سا کام نہیں کر سکتے۔‘ ابرار کے مطابق اُن کی والدہ نے بتایا تھا کہ فلائٹ کا وقت بھی ہو رہا تھا اور ایسے میں بحث کرنے کا زیادہ وقت نہ تھا۔اور پھر اگلی صبح یہ پانچوں افراد ائیر سیال کی فلائٹ نمبر پی ایف 718 کے ذریعے صبح چھ بج کر دس منٹ پر جدہ روانہ ہو گئے۔تقریباً ایک ہفتے بعد چھ اکتوبر کی صبح ابرار حسین کا فون بجا تو دوسری جانب اُن کی والدہ زیارت بی بی تھیں۔ ابرار کے مطابق اُن کی والدہ نے انھیں بتایا کہ ’پُتر، میں جیل سے بول رہی ہوں۔ ہمیں جو گفٹ پیک دیے گئے تھے ان میں من شیات تھی۔ تحفے میں دیے گئے جوتوں کے تلووں میں بھی من شیات تھی۔‘زیارت بی بی نے روتے ہوئے انھیں بتایا کہ جب وہ جدہ ائیرپورٹ پہنچے تو اُن کے سامان کی تلاشی لی گئی جس میں تمام پانچوں افراد کے سامان سے مجموعی طور پر پانچ کلو، 500 گرام من شیات برآمد ہوئی.
جس کے بعد انھیں ائیرپورٹ پر ہی حراست میں لے لیا گیا تھا۔زیارت بی بی نے اپنے بیٹے کو یہ بھی بتایا کہ سعودی جیل حکام نے ہی اُن کی فون پر بات کروائی ہے تاکہ ورثا کو اس معاملے کا علم ہو سکے۔ابرار حسین کہتے ہیں کہ ’ہم صدام حسین شاہ کے ڈیرے پر پہنچے تو یہ تفصیلات سُن کر وہ بھی بظاہر پریشان ہو گیا اور کہنے لگا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے، آپ کو یقیناً کوئی غلطی لگی ہو گی۔‘ابرار کے مطابق صدام حسین نے انھیں دلاسہ دیا اور کہا کہ آپ لوگ فکر نہ کریں، میں پانچوں افراد کی رہائی کا بندوبست کرتا ہوں۔اُن کے وہاں سے جانے کے بعد صدام حسین بھی ڈیرے سے غائب ہو گئے اور انھوں نے اپنے اہلخانہ کو بھی وہاں سے کسی نامعلوم جگہ پر منتقل کر دیا۔وہ کہتے ہیں کہ ’کچھ ہی روز گزرے تھے کہ گاؤں میں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار آئے۔ وہ ہمارے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے تھے اور انھوں نے متعلقہ تھانے جا کر بھی ہمارا ریکارڈ چیک کیا۔‘سعودی عرب میں یکم اکتوبر 2024 کو من شیات سم۔گلنگ کے الزام میں گرفتار ہونے والے ان پانچوں افراد کو ایک سعودی عدالت نے 17 فروی 2025 کو پچیس، پچیس سال قید کی سزا کا حکم دیا۔ادھر پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اس واقعے کے بارے میں باقاعدہ تحقیقات کا آغاز 6 نومبر 2024 کو کیا اور انکوائری ٹیم نے تحقیقاتی رپورٹ میں تین افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی سفارش کی جس پر 20 جنوری 2025 کو صدام حسین شاہ، اسرار اللہ اور گل نواز خان نامی افراد کے خلاف تھانہ ایف آئی اے فیصل آباد میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔
دستاویزات کے مطابق اس دوران مدعی مقدمہ ابرار حسین نے انکوائری افسر کو ایک یو ایس بی فراہم کی جس میں ملزم صدام حسین کی سعودی عرب میں گرفتار ہونے والے نئیر عباس کے ساتھ چیٹنگ کا ریکارڈ موجود تھا جس کے مطابق ملزم صدام حسین عمرہ کے سفر اور گفٹ بیگز کے متعلق بار بار ہدایت کر رہے تھے اور اسے تاکید کر رہے تھے کہ بیگ میرے بھیجے ہوئے بندے کے علاوہ کسی اور کو نہ دینا۔ملزم صدام حسین شاہ کے وکیل نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کر رکھی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ صدام حسین شاہ اس معاملے میں بے قصور ہیں اور ان کا من شیات کی سم۔گلنگ کا کوئی سابقہ ریکارڈ بھی نہیں ہے۔اس درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدام حسین کی طرف سے جتنے لوگوں کو بھی ماضی میں سعودی عرب بھجوایا گیا ان سے کوئی رقم نہیں لی گئی اور تمام لوگ عمرہ کر کے وطن واپس آ چکے ہیں۔ایف آئی اے کے تفتیشی افسر کے مطابق جب ایک ٹیم نے علاقے میں جا کر چھان بین کی تو انکشاف ہوا کہ صدام حسین شاہ نے اس سے پہلے جن لوگوں کو مفت یا کم رقم کے عوض عمرے کے لیے بھجوایا تھا وہ سب لوگ واپس آ چکے ہیں۔وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان کی طرف سے فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ان پانچ افراد کی رہائی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ان کے مطابق اس سلسلے میں پاکستان میں موجود سعودی سفارت خانے کی وساطت سے سعودی حکومت کے ساتھ بات چیت بھی چل رہی ہے۔طلال چوہدری کہتے ہیں کہ ہماری کوششوں میں کمی نہیں، تاہم یہ ایک حساس معاملہ ہے جس پر زیادہ پیشگی رائے نہیں دی جا سکتی۔

Comments
Post a Comment