1992 میں دو سال کا تھا جب اپنی ماں کیساتھ۔۔۔

محمد آصف نے بتایا کہ اسے ایک عورت نے اغوا کیا، جس کے تین بھائی اور ایک ماں تھی، اور وہ اسے سر گودھا کے قریب جھانوریا گاؤں میں چھوڑ کر راولپنڈی چلی گئی۔ آصف کے مطابق گاؤں والوں نے

ان بچوں کو دیکھ کر شک ظاہر کیا کہ یہ اغوا شدہ لکھتے ہیں کیونکہ ان کی شکلیں گھر والوں سے نہیں ملتیں۔ بعد ازاں وہ لوگ جھانور یا چھوڑ کر تحصیل بھلوال منتقل ہو گئے، جہاں آصف نے محض 9 سال کی عمر میں خود جانور یا واپس جا کر ایک وکیل کے ہاں پتا ولی۔ وکیل نے اسے بیٹے کی طرح ولا، تعلیم دلانے کی کوشش کی، مگر آصف نے تعلیم کی بجائے الیکٹریشن کا پیشہ اختیار کیا، اور 2017 میں اپنی کمائی سے گھر خرید کر شادی کرلی۔
محمد آصف نے مزید بتایا کہ ایک دن وہ ایک سنار کی دکان پر موجود تھا جب ایک شخص سے ملاقات ہوئی، جس سے اس نے والدین کی تلاش کا ذکر کیا۔ اسی ذریعے سے وہ معروف سماری کار کن ولی اللہ معروف تک پہنچا، جنہوں نے اس سے ذاتی نشانیاں اور تفصیلات پوچھ کر والدین کا پتے لگایا۔ اس جذباتی ملاقات کے دوران محمد آصف کے والدین نے بتایا کہ وہ ہر دن اپنے بچے کی یاد میں گزارتے تھے اور اللہ سے عبر ما نگتے رہے۔
سلیم صافی نے جرگہ کے آغاز میں بتایا کہ یہ ملاقات ان کے دفتر میں ہوئی اور انہیں فخر ہے کہ ان کا پرو گرام اس تاریخی اور دل کو چھو لینے والے لمحے کا ذریعہ بنا۔ سماجی کارکن ولی اللہ معروف کا کہنا تھا کہ وہ اس جیسے کیسز میں سوشل میڈ پر ویڈیوز کے ذریعے متاثرین تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں اس بار کامیابی ملی۔
یادر ہے کہ محمد آصف 1992 میں صرف دو سال کی عمر میں بری امام اسلام آباد سے انھوا ہوا تھا، اور 32 سال تک اپنے اصلی خاندان سے جدا لوہا۔ اس کی تلاش کی داستان اس بات کا ثبوت ہے کہ امید اور کوشش بھی رائیگاں نہیں جاتی ، اور سوشل میڈیا جیسے جدید ذرائع آج انسانی چھڑے رشتے دو بار وجوڑنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

Comments