کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ ایک خوشحال، صحت مند بیوی خود اپنے شوہر کی شادی دوسری عورت سے کروائے؟ جی ہاں، یہ کہانی بالکل سچ ہے، اور اس نے سوشل میڈیا پر طوفان مچا دیا ہے۔
یہ واقعہ ایک درمیانے طبقے کے خوشحال گھرانے کا ہے، جہاں عائشہ اور فہد کی شادی کو چھ سال ہو چکے تھے۔ دونوں کی زندگی عام شادی شدہ جوڑوں کی طرح خوشگوار تھی۔ عائشہ ایک تعلیم یافتہ، سمجھدار اور خوددار عورت تھی۔ مگر ایک دن اُس نے ایسا فیصلہ کیا جس نے سب کو حیران کر دیا — اس نے اپنے شوہر فہد کی شادی اپنی خوبصورت سہیلی، مریم، سے خود کروادی!
سب حیران تھے۔ کسی نے کہا عائشہ پاگل ہو گئی ہے، کسی نے کہا کہ فہد نے اس پر دباؤ ڈالا ہوگا۔ مگر جب حقیقت سامنے آئی تو سب کے نظریے بدل گئے۔ عائشہ کا کہنا تھا، “میں جانتی ہوں کہ محبت صرف قابو پانے کا نام نہیں، بلکہ کسی کے سکون کی ضمانت دینے کا نام ہے۔ فہد مریم کو پسند کرتا تھا، اور میں نے صرف اُس کی خوشی کو اپنا فرض سمجھا۔”
یہ الفاظ سن کر لوگ خاموش ہو گئے۔ آج کے زمانے میں، جہاں حسد اور خود غرضی رشتوں کو کھوکھلا کر دیتے ہیں، وہاں عائشہ نے قربانی کی ایک نایاب مثال قائم کی۔ دوسری طرف مریم — جو کہ عائشہ کی بچپن کی سہیلی تھی — شادی کے وقت رو پڑی۔ اُس نے کہا، “مجھے یقین نہیں آتا کہ کوئی عورت اپنی دوست اور اپنے شوہر دونوں کے لیے اتنی بڑی قربانی دے سکتی ہے۔”
فہد کا ردِعمل بھی دلچسپ تھا۔ وہ کہتا ہے، “میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میری زندگی میں اتنی سمجھدار عورت ہوگی جو میری خوشی کو اپنی عزت سمجھے گی۔”
یہ کہانی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ کسی نے عائشہ کو “آج کی مثالی عورت” کہا، تو کسی نے یہ سوال اٹھایا کہ “کیا واقعی یہ محبت ہے یا حد سے زیادہ قربانی؟”
عائشہ کا کہنا ہے کہ اُس نے یہ فیصلہ دباؤ میں نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر کیا۔ اُس کے مطابق، “اگر رشتہ سچائی پر قائم ہو تو ایک نئی شادی اُسے توڑ نہیں سکتی، بلکہ مزید مضبوط کر دیتی ہے۔”
یہ انوکھی شادی صرف ایک خبر نہیں بلکہ ایک سوچ ہے — کہ محبت کبھی کبھی قربانی مانگتی ہے، اور کچھ لوگ وہ قربانی دے کر دنیا کو حیران کر دیتے ہیں۔
آخر میں یہی سوال دل میں گونجتا ہے: کیا آپ اتنی ہمت رکھتے ہیں کہ کسی کی خوشی کے لیے اپنی ترجیحات قربان کر سکیں؟

Comments
Post a Comment