رات کے سناٹے میں جب سب سو رہے تھے، ایک قبر تھی… جو ہر رات خود بخود کھل جاتی تھی۔ قبرستان کے پہرے داروں نے کئی بار دیکھا — لیکن جب صبح ہوتی، قبر دوبارہ بند ملتی۔ کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا… آخر یہ راز کیا ہے؟
یہ کہانی ایک چھوٹے سے گاؤں “نورآباد” کی ہے، جہاں لوگ بہت دیندار، مگر خوف زدہ رہنے لگے۔ ہر شخص کہتا، “یہ قبر کسی گناہگار کی ہے — اللہ کا عذاب ہے!” مگر ایک بزرگ درویش، بابا رحمت، کچھ اور سوچتے تھے۔ وہ بولے: “اللہ کے نظام میں کوئی کام بے مقصد نہیں۔ یہ قبر بول رہی ہے… لیکن کوئی سننے والا چاہیے۔”
اگلی رات، بابا رحمت اکیلے قبرستان گئے۔ چاند آدھا تھا، فضا میں ہوا نہیں،
بس دور کہیں کتوں کے بھونکنے کی آواز… انہوں نے قرآن کی تلاوت شروع کی۔ اچانک زمین ہلکی سی لرزنے لگی، اور وہی قبر… دھیرے دھیرے کھلنے لگی۔
اندر سے کسی کے سسکنے کی آواز آئی۔ بابا کے قدم کانپنے لگے، مگر وہ آگے بڑھے۔ قبر کے اندر ایک روشنی سی چمکی، اور پھر ایک مدھم آواز —
“بابا… میں ہر رات اٹھتی ہوں، کیونکہ میرا ایک قرض ابھی باقی ہے۔”
بابا رحمت کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ “کون ہو تم؟” آواز آئی: “میں زینب ہوں… میں نے اپنی زندگی میں بہت نمازیں پڑھیں، مگر ایک عورت کا دل توڑا۔۔ میری مغفرت ہو گئی، مگر اُس کا حق ابھی باقی ہے۔ جب تک وہ معاف نہیں کرتی، مجھے سکون نہیں ملے گا…”
بابا رحمت نے اگلی صبح پورے گاؤں کو بلایا، اور وہ عورت بھی آ گئی جس کا دل زینب نے توڑا تھا۔ جیسے ہی اُس نے “معاف کیا” کہا، زمین ہلکی سی کانپی — اور اُس قبر کے پتھر خود بخود مضبوطی سے جڑ گئے۔
اس کے بعد وہ قبر… کبھی نہیں کھلی۔
مورال
زندگی میں کیے گئے اعمال کبھی مٹتے نہیں، کچھ حقوق صرف اللہ معاف کرتا ہے، اور کچھ صرف انسان۔ کبھی کسی کے دل سے نکلی “آہ” قبر کی خاموشی بھی توڑ دیتی ہے۔

Comments
Post a Comment