بیوی نے عاشق کے ساتھ مل کر شوہر کا ق تل کر دیا

لاہور کے علاقے گرین ٹاؤن میں پیش آنے والا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پورے علاقے میں سنسنی پھیلا گیا۔ تین بچوں کی ماں قیصرہ نے اپنے ہی شوہر آصف کو اپنے آشنا رضوان شاہ کے ساتھ مل کر بے دردی سے قتل کر دیا۔ اس واردات نے نہ صرف پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ ایک معصوم گھرانے کو بربادی کی اندھیری گلی میں دھکیل دیا۔

پولیس کے مطابق آصف ایک محنتی اور شریف مزاج شخص تھا جو اپنے خاندان کے لیے دن رات کام کرتا تھا۔ اس نے رضوان شاہ کو اپنے کاروبار میں ملازم رکھا ہوا تھا۔ لیکن قسمت نے ایک بھیانک موڑ لیا، جب اسی ملازم نے آصف کی بیوی کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کر لیے۔ قیصرہ اور رضوان کے درمیان بڑھتی قربت نے آخر کار انہیں ایک ایسے گناہ کی راہ پر ڈال دیا جہاں سے واپسی ممکن نہ رہی۔

وقت گزرنے کے ساتھ دونوں کے تعلقات اتنے گہرے ہو گئے کہ انہوں نے آصف کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا۔ ایک رات دونوں نے مل کر سفاکی سے آصف کا قتل کر دیا۔ قیصرہ نے گھر کے اندر سے مدد فراہم کی، جب کہ رضوان نے وار کر کے آصف کی جان لے لی۔ قتل کے بعد خوف اور گھبراہٹ نے دونوں کو گھیر لیا۔ انہیں ڈر تھا کہ اگر لاش ملی تو فوراً شک ان پر جائے گا۔ اسی خوف کے باعث انہوں نے آصف کی لاش کو پتوکی لے جا کر نہر میں بہا دیا تاکہ جرم کے نشانات مٹ جائیں۔

تاہم، قدرت کے نظام سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ کچھ دن بعد نہر میں ایک نامعلوم لاش کی اطلاع پولیس کو ملی۔ تحقیقات کے دوران شواہد قیصرہ اور رضوان تک جا پہنچے۔ پولیس نے انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ دورانِ تفتیش دونوں نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔

یہ خبر پورے علاقے میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ لوگوں کے لیے یقین کرنا مشکل تھا کہ ایک ماں، جو اپنے بچوں کے لیے محبت اور تحفظ کی علامت سمجھی جاتی ہے، وہ اتنی سنگدل بھی ہو سکتی ہے کہ اپنے شوہر کا خون اپنے ہی ہاتھوں سے کر دے۔

اب قیصرہ اور رضوان جیل میں ہیں، لیکن اس واقعے نے تین معصوم بچوں کو ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ان کے مستقبل پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ نہ باپ کا سایہ باقی رہا اور نہ ماں کا دامن — صرف معاشرتی طعنے، محرومیاں، اور ایک بھیانک یاد جو ان کی ساری زندگی کا بوجھ بن جائے گی۔

یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حرام تعلقات ہمیشہ تباہی کی راہ پر لے جاتے ہیں۔ گناہ وقتی خوشی دے سکتا ہے مگر انجام ہمیشہ عبرتناک ہوتا ہے۔

Comments