- Get link
- X
- Other Apps
دوستو! پیشاب کی وجہ سے انسان کی صحت کا حال بآسانی معلوم کیا جا سکتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ مختلف قسم کی بیماریوں کی تشخیص کے ٹیسٹ کرائے جاتے ہیں۔ یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ دن میں پیشاب کی فریکوئنسی سے یہ جاننے میں بھی مدد ملتی ہے کہ انسان کی صحت کیسی ہے۔ مثال کے طور پر جن افراد کے مثانے میں خرابی ہو یا کوئی دوسرا مسئلہ ہو تو انہیں پیشاب زیادہ آتا ہے۔
بار بار پیشاب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ معمول سے کہیں زیادہ بار پیشاب کرنے کی طلب ہو۔ یہ آپ کے معمول میں خلل ڈال سکتا ہے، نیند میں رکاوٹ بن سکتا ہے، اور یہ کسی چھپی ہوئی بیماری کی علامت ہو سکتی ہے۔ بہت سارے لوگ بار بار پیشاب کرتے ہیں۔ جب ایک دن میں 3 لیٹر سے زیادہ پیشاب ہو تو اسے پولی یوریا کہا جاتا ہے۔ اکثر اس کی کوئی سادہ سی وجہ ہوتی ہے جسے علاج کے ذریعے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ بار بار پیشاب آنا خطرناک اور سنگین حالت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسی طرح بعض لوگوں کو پیشاب بہت کم مقدار میں آتا ہے، یہ بھی کسی سنگین مسئلے کی نشانی ہو سکتا ہے۔
لیکن ایک صحت مند انسان کو دن میں کتنی بار پیشاب آنا چاہیے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب اگر ہر انسان کو معلوم ہو جائے تو وہ صحت کے مسائل سے کافی حد تک بچ سکتا ہے۔ تو آج کی اس ویڈیو میں ہم آپ کو بار بار پیشاب آنے کی وجوہات، انفیکشن اور پیشاب کی تکلیف کو دور کرنے کے آسان گھریلو طریقے بتائیں گے۔ تو آگے بڑھنے سے قبل آپ سے گزارش ہے کہ اس ویڈیو کو لائک کریں، اور اگر ابھی تک آپ ہمارے چینل "Ummad Ab" کا حصہ نہیں بنے تو Ummad Ab کو سبسکرائب کر کے گھنٹی کا بٹن ضرور دبا دیں۔
دوستو! پیشاب کی نالی میں سوزش کی چند وجوہات ہیں جن سے اکثر افراد لا علم ہوتے ہیں۔ ویسے تو خواتین میں اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، لیکن مردوں کو بھی اس کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس کی سب سے عام وجوہات یہ ہیں:
نمبر 1: قبض
اکثر قبض رہنا مثانے کے لیے خالی ہونا مشکل بنا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں اس نالی میں بیکٹیریا کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگتی ہے جو انفیکشن کا باعث بنتے ہیں۔ اسی طرح ہیضہ یا بدہضمی بھی پیشاب کی نالی میں سوزش کا خطرہ بڑھانے والے امراض ہیں۔
نمبر 2: شوگر
جب بلڈ شوگر بڑھ جاتی ہے تو اضافی شوگر پیشاب کے راستے خارج ہوتی ہے، جو بیکٹیریا کی نشوونما کے لیے ماحول سازگار بنا دیتی ہے اور متاثرہ فرد کو اس تکلیف دہ مرض کا شکار بنا دیتی ہے۔ یعنی شوگر کے مریضوں کو اس معاملے میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
نمبر 3: پیشاب کو روکے رکھنا
اگر آپ پیشاب کو کئی کئی گھنٹے روکے رکھتے ہیں تو یو ٹی آئی (UTI) کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے، کیونکہ ایسا کرنے پر بیکٹیریا پھیل جاتا ہے اور اس کی نشوونما تیزی سے ہونے لگتی ہے۔
نمبر 4: پانی کی کمی
بہت زیادہ پانی پینا نہ صرف پیاس سے نجات دلاتا ہے بلکہ یو ٹی آئی سے بھی تحفظ دیتا ہے۔ خاص طور پر گرمیوں میں اگر مناسب مقدار میں پانی کا استعمال نہ کیا جائے تو اس سوزش کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
نمبر 5: گردوں کی پتھری
گردوں میں جمع ہونے والے منرلز کا یہ مجمع بھی پیشاب کی نالی میں سوزش کا خطرہ بڑھاتا ہے، کیونکہ ایسا ہونے سے پیشاب کی نالی میں بلاک ہو جاتی ہے جس سے بیکٹیریا کی نشوونما بڑھ جاتی ہے۔
نمبر 6: تنگ کپڑے
اپنے جسم پر تنگ کپڑوں کا اکثر استعمال پیشاب کی نالی میں سوزش یا انفیکشن جیسی تکلیف دہ امراض کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ ٹائٹ یا تنگ کپڑوں کا استعمال پیشاب کی نالی میں سوزش کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین میں یہ خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس انفیکشن یا سوزش کے نتیجے میں گردوں کے متاثر ہونے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔
دوستو! اس سوزش یا یو ٹی آئی کی علامات پہلے ہی پہچانی جا سکتی ہیں، لیکن اکثر افراد انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لہٰذا اگر آپ پیشاب کی نالی کے مرض کی نشاندہی چاہتے ہیں تو ان علامات کو جانیں:
عام علامات:
آپ کو ہر وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پیشاب آ رہا ہے، چاہے آپ ابھی باتھ روم سے ہی کیوں نہ آئے ہوں۔ آپ کو اس معاملے میں ایمرجنسی کا احساس بھی ہو سکتا ہے، یعنی ابھی فوراً جانا ضروری ہے۔
جب آپ باتھ روم جائیں تو پیشاب بہت کم آئے۔ آپ کو محسوس ہو کہ مزید کرنا ہے مگر کوشش کے باوجود نہ ہو سکے، یا آپ کو اطمینان نہ ہو، تو یہ بھی یو ٹی آئی کی علامت ہے۔
اس بیماری کے دوران پیشاب آنے پر جلن کا احساس ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ درد بھی ہو سکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں یہ خرابی کی ہی علامت ہوتا ہے۔
یو ٹی آئی کے مرض میں اکثر پیشاب میں خون آتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ ہر کسی کے ساتھ ایسا ہی ہو۔ اسی طرح پیشاب دیکھنے میں گاڑھا بھی ہو سکتا ہے۔
مثانے میں کسی بھی قسم کے انفیکشن کے نتیجے میں پیشاب کی بو بہت بری ہو جاتی ہے۔ اگر آپ کو بھی بدبو کے ساتھ پہلے بیان کی جانے والی علامات کا سامنا ہو تو اس صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں اور اس کی ہدایت کے مطابق ٹیسٹ کروائیں۔
پیشاب کی رنگت بہت کچھ بتا سکتی ہے۔ پیشاب کی نالی میں انفیکشن کی صورت میں اگر یہ رنگت زرد یا شفاف سے ہٹ کر کچھ اور ہو تو یہ فکر مندی کی نشانی ہے۔ سرخ یا بھوری رنگت انفیکشن کی علامت ہے۔ البتہ پہلے یہ دیکھ لیں کہ آپ نے ایسی کوئی چیز تو نہیں کھائی جس کی رنگت گلابی، رانی یا سرخ ہو۔
انتہائی شدید تھکاوٹ: پیشاب کی نالی میں سوزش درحقیقت مثانے کے انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہے۔ کسی بھی قسم کے انفیکشن کے نتیجے میں جب جسم کو اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ غلط ہو رہا ہے تو ورم پیدا ہونے لگتا ہے۔ حفاظتی اقدامات کے ساتھ وہ خون کے سفید خلیوں کو تحریک دیتا ہے، جس کے نتیجے میں تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے۔
بخار: اگر دیگر علامات کے ساتھ بخار ہو یا رات کو سوتے ہوئے جسم پسینے میں بھیگ جاتا ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
دوستو! اگرچہ یو ٹی آئی کا انفیکشن بہت زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے اور انسان کو کسی پل آرام نہیں لینے دیتا، لیکن اچھی بات یہ ہے کہ پیشاب کی نالی میں سوزش کا علاج آسانی سے ممکن ہے۔ بس آپ کو شروع میں ہی اس کی علامات کو پہچاننا ہوگا۔
بچاؤ کے طریقے:
صفائی: پیشاب کرنے کے بعد صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ یہ عادت سوزش جیسے تکلیف دہ مرض کا خطرہ کم کر دیتی ہے، خاص طور پر خواتین کے لیے تو یہ عادت بہت ضروری ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ خواتین میں اس مرض کا خطرہ مردوں کے مقابلے میں 60 فیصد زیادہ ہوتا ہے، ہر چار میں سے ایک خاتون اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔
پانی کا زیادہ استعمال: اس تکلیف دہ مرض سے بچنے کا آسان اور محفوظ طریقہ انفیکشن کی روک تھام کرنا ہے، اور عام معمول سے 1 لیٹر زیادہ پانی پینا اس بیماری سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اگرچہ خواتین میں اس مرض کا خطرہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے، تاہم مردوں کو بھی اس احتیاط پر عمل کرنا چاہیے۔ زیادہ پانی پینے سے مثانے میں جمع ہونے والے بیکٹیریا کو نکالنا آسان ہو جاتا ہے اور ان کی نشوونما نہیں ہو پاتی، جو کہ سوزش کا باعث بنتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پیشاب کی نالی میں انفیکشن سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ بیکٹیریا کو جمع ہونے سے روکا جائے۔ پانی زیادہ پینا اس میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، اور اس پر کوئی اضافی خرچہ نہیں ہوتا جبکہ کوئی مضر اثرات بھی مرتب نہیں ہوتے۔ اس سے پہلے یہ بات بھی سامنے آ چکی ہے کہ درمیانی عمر میں پانی کم پینا گردوں کے امراض کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے، اور زیادہ پانی پینا اس جانلیوا مرض سے بچاتا ہے۔
بیکنگ سوڈا: بیکنگ سوڈا میں الکلین ہوتا ہے جو پیشاب میں تیزابیت کو معتدل کرتا ہے۔ اس کے لیے ایک چائے کا چمچ بیکنگ سوڈا ایک گلاس پانی میں ملا کر پی لیں۔ جہاں تک ممکن ہو اس مشروب کا استعمال کریں۔
دہی: سادہ دہی لیں اور ہر کھانے کے بعد کچھ مقدار میں کھا لیں۔ دہی نہ صرف نظامِ ہاضمہ کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ یہ پیشاب کی نالی کی سوزش سے بھی تحفظ فراہم کرتی ہے۔
وٹامن سی: لیموں، مالٹا، پپیتا، شملہ مرچ اور ترش پھلوں سمیت کئی چیزوں میں وٹامن سی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے، اور یہ پیشاب کی نالی میں انفیکشن کے علاج کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر اس سوزش کا سامنا ہے تو اس وقت تک ترش پھل کچھ مقدار میں روز کھائیں جب تک انفیکشن ختم نہیں ہو جاتا۔
سبز چائے: ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ایک کپ سبز چائے روزانہ پینے کی عادت پیشاب کی نالی میں سوزش کا مقابلہ ہی نہیں کرتی بلکہ اس کے دوبارہ لوٹنے سے بھی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اگر اس مرض کا سامنا ہے تو صبح شام دو کپ سبز چائے پینا عادت بنا لیں۔
دوستو! ہمارے اردگرد لوگوں کو اکثر بار بار پیشاب آنے کی تکلیف میں مبتلا دیکھا جا سکتا ہے۔ کہیں پانی پیا، فوری پیشاب کی حاجت محسوس ہونے لگی۔ دن میں کتنی مرتبہ پیشاب کرنا نارمل ہے؟ یہ طے کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ اس کا انحصار دو چیزوں پر ہے: ایک تو آپ کے پانی، چائے اور کافی وغیرہ پینے کی مقدار، اور دوسرا آپ کے گردوں کی صحت۔ تاہم ماہرین نے اس کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ حد بتا دی ہے۔
ماہرین صحت کہتے ہیں کہ دن میں چار یا پانچ بار پیشاب کی حاجت ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں، لیکن اگر آپ کو دن میں سات بار سے زیادہ اور رات کے وقت دو یا تین بار سے زیادہ حاجت محسوس ہو تو یہ خطرے کی علامت ہے۔ رات کے وقت بار بار پیشاب کی حاجت ہونا زیادہ تر ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور مثانے کی کمزوری کی وجہ سے ہوتی ہے۔ رات کو اٹھ اٹھ کر پیشاب کرنے سے نیند بری طرح متاثر ہوتی ہے، اور اس طرح وہ اشکال ثانی، دباؤ اور نفسیاتی تناؤ کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ نتیجے میں چڑچڑاپن، بد مزاجی اور طبیعت میں غصہ پایا جانا بڑھ جاتا ہے۔
اکثر لوگ یہ شکایت بھی کرتے ہیں کہ پیشاب کنٹرول کرنے والی ادویات استعمال کرنے کے باوجود بھی وہ مرض سے چھٹکارا پانے میں ناکام ہیں۔ دن میں بار بار پیشاب آنے کی کئی ایک وجوہات ہو سکتی ہیں، پہلے وہ جان لیں تاکہ اس مرض پر قابو پانے میں آسانی ہو۔
وجوہات:
بہت زیادہ پانی پینا: اگر آپ زیادہ مقدار میں پانی پینا شروع کر دیں تو آپ کو باتھ روم کے چکر بھی زیادہ لگانے پڑتے ہیں۔ اگر کچھ زیادہ ہی چکر لگ رہے ہیں تو دیکھیں آپ کتنا پانی پی رہے ہیں۔ عام طور پر ضرورت سے زیادہ پانی پینے کے نتیجے میں جسم میں نمکیات کی کمی ہونے لگتی ہے، جس کی indication پیشاب کی بالکل شفاف رنگت سے بھی ہوتی ہے، جو بدترین صحت کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔ تو اس کا ایک آسان حل ہے کہ بہت زیادہ کی جگہ مناسب مقدار میں پانی پئیں۔
چائے، کافی یا سافٹ ڈرنکس کا استعمال: مذکورہ بالا مشروبات جیسے کافی، چائے یا کولڈ ڈرنکس وغیرہ زیادہ مقدار میں پینا بھی ہر وقت پیشاب آنے کی وجہ بن سکتا ہے۔ ان مشروبات کے نتیجے میں جسم میں نمک اور پانی کی مقدار بڑھتی ہے اور گردے ان کی صفائی کرتے رہتے ہیں، جس کے باعث زیادہ پیشاب آتا ہے۔
پیشاب کی نالی میں سوزش: یہ انفیکشن اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب خطرناک بیکٹیریا گردوں، مثانے یا اس کی نالی میں داخل ہو جائیں۔ ان بیکٹیریا کو جسم سے خارج کرنے کے لیے بھی گردے ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور زیادہ پیشاب بنانے لگتے ہیں۔ اس مرض میں مثانہ اور گردے متاثر ہو سکتے ہیں، اور اس انفیکشن کے باعث مثانے میں ورم کے شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ اس صورت میں پیشاب کی رنگت تبدیل ہو جاتی ہے اور 24 گھنٹے ایسا لگتا ہے کہ پیشاب آ رہا ہے۔
شوگر: جب آپ شوگر کے شکار ہو جائیں تو آپ کا جسم خوراک کو شوگر میں تبدیل کرنے میں زیادہ بہتر کام نہیں کر پاتا، جس کے نتیجے میں دورانِ خون میں شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور جسم اسے پیشاب کے راستے باہر نکالنے لگتا ہے، یعنی ٹوائلٹ کا رخ زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ تاہم اس مرض کے شکار اکثر افراد اس خاموش علامت سے واقف ہی نہیں ہوتے اور نہ ہی اس پر توجہ دیتے ہیں۔ خاص طور پر رات کو ایک یا دو بار ٹوائلٹ کا رخ کرنا تو معمول سمجھا جاتا ہے۔ تاہم یہ تعداد بڑھنے اور آپ کی نیند پر اثرات مرتب ہونے کی صورت میں اس پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
بہت کم پانی پینا: جی ہاں، واقعی! بہت زیادہ کی جگہ اگر بہت کم پانی پیا جائے تو بھی یہ مسئلہ ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے مثانہ متاثر ہوتا ہے اور وہ دماغ کو یہ احساس دلاتا رہتا ہے کہ پیشاب آ رہا ہے، جبکہ ایسا ہوتا نہیں۔ اگر آپ پانی کم پیتے ہیں مگر ہر وقت پیشاب آنے کا احساس ہوتا ہے تو پانی پینے کی مقدار بڑھا دیں۔
گردوں کی پتھری: گردے کی پتھری پیشاب کی نالی کے کسی بھی حصے کو متاثر کر سکتی ہے۔ وہاں سے ان کا نکلنا کافی تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے اور پیشاب زیادہ آنے لگتا ہے، جس کے ساتھ تکلیف بھی ہوتی ہے۔
مخصوص دوائیں: اس وقت تک سامنا رہتا ہے جب تک وہ ہائی بلڈ پریشر کی ادویات کا استعمال چھوڑ نہیں دیتے، کیونکہ ہائی بلڈ پریشر میں استعمال ہونے والی دوائیں پیشاب آور ہوتی ہیں اور ان کی اثر پذیری کا نتیجہ بھی پیشاب کھل کر آنے میں ہی سامنے آتا ہے۔ لہٰذا جب تک بلڈ پریشر کی دوا کا استعمال جاری رہے گا، تب تک پیشاب کو کم یا کنٹرول کرنے والی دوائیں بے اثر ہی رہنے کے امکانات ہیں۔ مذکورہ بالا صورتِ حال سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ مرض کی وجہ جان کر اس کا ازالہ کیا جائے۔ سب سے پہلے اپنا بلڈ پریشر دوا کی بجائے خوراک کے استعمال سے کنٹرول کرنے کی کوشش کریں۔ اپنی روزمرہ خوراک سے نمک، چکنائی والی یا تلی ہوئی ڈشز نکال کر، سبزیاں، موسمی پھل، گھریلو سادہ اور قدرتی خوراک روزمرہ کھانے میں شامل کر کے بآسانی ہائی بلڈ پریشر اور اس سے متعلقہ دیگر مسائل سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔
تناؤ اور اضطراب: بار بار پیشاب کا آنا بعض اوقات پریشانی یا گھبراہٹ کے احساس کے نتیجے میں بھی ہو سکتا ہے۔ اس میں تناؤ کے تناظر میں آپ کے جسم کی "فائٹ یا فلائٹ" کا ردعمل شامل ہو سکتا ہے۔ اگر آپ اپنی گھریلو زندگی، کام کی زندگی، معاشی زندگی یا کسی اور جگہ پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں تو تناؤ کو مؤثر طریقے سے سنبھالنے کے طریقے تلاش کرنے سے آپ کے پیشاب کی تعداد کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
کمزور پٹھے: آپ کے پٹھے (مثانے کے کنٹرول والے) طاقت کھونے لگتے ہیں اور بار بار اس کا باعث بن سکتے ہیں۔ زیادہ عمر بھی آپ کے پٹھوں کو کمزور کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔
بلغم مزاج: عام طور پر مزاج میں بلغم کا استعمال ہونے سے سردی اور تری میں اضافہ ہو جائے تو نظامِ بدن متاثر ہوتا ہے۔ بلغم کی زیادہ مقدار سے بدن میں حرارت کی utilization مناسب نہیں ہو پاتی، تو مریض بار بار پیشاب کی حاجت ہونے کے ساتھ ساتھ سرد امراض کی لپیٹ میں بھی آنے لگتا ہے، جیسے فالج اور لقوہ جیسی بیماریاں۔ اس ریاست میں سردی غالب آنے سے یہ علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
پرہیز اور علاج:
جب مزاج میں بلغم کی زیادتی سے مثانے کی کمزوری ظاہر ہو اور پیشاب بار بار آنے کی شکایت ہونے لگے تو سب سے پہلے ترش، بادی اور بلغم اور سرد مزاج کی چیزیں استعمال کرنی ترک کر دیں۔ بلغم پیدا کرنے والی خوراک: دہی، سادہ دودھ، شکرقندی، آلو، گوبھی، دال ماش وغیرہ سے بھی دور رہنے میں ہی عافیت ہے۔ گرم اور خشک مزاج کی حامل چیزوں کے استعمال میں اضافہ کر دیں۔ لونگ، دارچینی اور میتھی کے ان اجزاء کی مناسب مقدار پانی میں پکا کر بطور قہوہ پینے سے نہ صرف مزاج کی سردی معتدل ہوتی ہے بلکہ پیشاب بار بار آنے کی تکلیف سے بھی نجات ملتی ہے۔
اسی طرح رات کے وقت پیشاب آنے سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ موسم کی مناسبت سے کچی سبزیاں، پھل اور پھلوں کے جوس دوپہر تک استعمال کیے جائیں، اور شام کے بعد کسی بھی قسم کا لیکوئڈ حتیٰ کہ پانی بھی کم سے کم ہی لیا جائے۔ چائے میں زیادہ چینی اور میٹھے پکوانوں کا استعمال بھی پیشاب کی زیادتی کا باعث بنتا ہے، لہٰذا چائے میں چینی کم سے کم اور میٹھے پکوان بھی حسبِ ضرورت ہی استعمال کیے جائیں۔ ایک ضروری وضاحت یہ ہے کہ چائے میں چینی کم کرنے اور میٹھے پکوانوں کے استعمال میں کمی کا مشورہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جن کی علامات پہلے بیان کی گئی ہیں۔
اسی طرح پیشاب بار بار آنے سے بچنے کے لیے مثانے کو مضبوط بنانے والی خوراک کا استعمال لازمی ہوتا ہے۔ دیسی مرغ کی یخنی، پرندوں کا گوشت، السی کی پھلیاں اور کدو کے استعمال اس پریشانی سے محفوظ رکھتے ہیں۔ اور ترش غذائی اجزاء: لیموں، کینو، گریپ فروٹ، انناس اور ترش انار وغیرہ سے مکمل پرہیز کرنے میں ہی فائدہ ہوتا ہے۔
اسی طرح صبح سویرے جسم وارم اپ کرنے کے بعد ورزش لازمی کریں۔ اگر ورزش کرنا ممکن نہ ہو تو پورے بدن پر تیلوں کے تیل سے مالش ضرور کروائیں۔ کمر کی ہڈی، گردن کے پٹھوں اور رانوں پر مساج نہ صرف اعصاب کی کمزوری دور کرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ پیشاب کی زیادتی کے مسائل سے بھی نجات دلاتا ہے۔
اسی طرح رات کو سوتے وقت امرود کا مغز، بادام کا مغز، پستہ کا مغز، چلغوزے کے چند دانے کھانا بھی پیشاب کے مسائل سے نجات دلاتا ہے۔
یاد رکھیں! ہماری روزمرہ استعمال ہونے والی خوراک ہی ہماری تندرستی اور طاقت کی ضامن ہے۔ اپنی خوراک کو معیاری، ملاوٹ سے پاک اور مناسب کر کے ہم بار بار پیشاب آنے کی بیماری سمیت تمام امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
گھریلو علاج:
اس مرض کے علاج کے لیے کچھ گھریلو علاج موجود ہیں، آپ ان سے بھی استفادہ کر سکتے ہیں۔ آئیے آپ کو ان کی تفصیل بتاتے ہیں:
میٹھا سوڈا (بیکنگ سوڈا): اگر یہ انفیکشن دو دن سے زیادہ طویل ہو جائے تو طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ اس بیماری کا علاج نہ کیا جائے تو یہ گردوں کو متاثر کرتی ہے اور مزید پیچیدگیوں کا باعث بھی بنتی ہے۔ اس بیماری سے بچنے کے لیے اسے ابتدا ہی میں روک دیں۔ اس سلسلے میں ایک چمچ میٹھا سوڈا ایک گلاس پانی میں گھول کر پینے سے انفیکشن میں آرام آتا ہے۔ اس سے پیشاب کی تیزابیت معمول پر آ جاتی ہے اور جلد صحت یابی میں مدد دیتی ہے۔
بلیو بیری: بلیو بیری اور کرین بیری کا تعلق ایک ہی پودے کے خاندان سے ہے، اور ان میں جراثیم کو روکنے والی خاصیت موجود ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق بلیو بیری کا استعمال پیشاب کی نالیوں کے انفیکشن کو روکتا ہے۔ اگرچہ بلیو بیری عام طور پر ہمارے ہاں نہیں ملتی، لیکن اگر دستیاب ہو جائے تو کم از کم ایک مٹھی کے قریب صبح کے وقت ناشتے میں استعمال کریں۔
کرین بیری کا جوس: کرین بیری کا جوس پیشاب کی نالیوں کے انفیکشن میں بچاؤ کا باعث بنتا ہے، جو بیماری پھیلانے والے جراثیم کو روکتا ہے اور مثانے کے لیے مفید ہے۔ اس میں معمولی حد تک جراثیم کش اثرات بھی پائے جاتے ہیں۔ ایک گلاس کرین بیری کا جوس روزانہ پینے سے مثانہ انفیکشن سے بچا رہتا ہے۔
انناس: انناس میں ایک انزائم پایا جاتا ہے جو پیشاب کے انفیکشن میں فائدہ مند ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پیشاب کی نالیوں کے انفیکشن کے علاج میں جراثیم کش ادویات کے ساتھ انناس کے جوس کا استعمال انفیکشن کے علاج میں معاون ہوتا ہے۔
پانی: اگر آپ کو اکثر پیشاب کی نالیوں میں انفیکشن کا خدشہ رہتا ہے تو روزانہ چھ سے آٹھ گلاس پانی پئیں۔ اس بیماری میں آپ کو تقریباً ہر چار سے پانچ گھنٹے بعد پیشاب آنا چاہیے۔ پانی کا زیادہ استعمال آپ کے خون سے جراثیم خارج کرتا ہے۔
وٹامن سی: بعض ڈاکٹر انفیکشن کے ان مریضوں کو جنہیں حال ہی میں یہ مرض لاحق ہوا ہو، 500 ملی گرام روزانہ کے حساب سے وٹامن سی تجویز کرتے ہیں۔ وٹامن سی پیشاب کو تیزابی بنا کر جراثیم کا خاتمہ کرتا ہے اور مثانے کو صحت مند رکھتا ہے۔
ایک قیمتی نسخہ:
اب آپ کو ایک قیمتی نسخہ بتاتے ہیں، اسے نوٹ کر لیں۔ اس نسخے میں تین چیزیں استعمال ہوں گی: اجوائن، گڑ اور کالے تل۔
سب سے پہلے شیشے یا پلاسٹک کی ایک صاف پیالی لے لیں اور اس میں ایک چمچ کالے تل ڈال دیں۔ کالے تل کی تاثیر گرم ہوتی ہے اور یہ بار بار پیشاب آنے کا بہترین علاج ہے۔ یہ مثانے کی کمزوری دور کر کے اسے مضبوط بناتے ہیں۔ یہ پروٹین اور دیگر معدنیات سے بھرپور ہوتے ہیں۔ یہ آپ کو کسی بھی پنساری اسٹور سے بآسانی مل جائیں گے، اس کی قیمت بہت زیادہ نہیں ہے۔
اب تل میں ایک چمچ اجوائن شامل کر لیں۔ اجوائن کے بارے میں تو یقیناً سب جانتے ہیں کہ یہ نہ صرف کھانوں کی لذت کو بڑھاتی ہے بلکہ بہت سے امراض میں دوا کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہے۔ اجوائن بھی بار بار پیشاب آنے کے مسئلے کا بہترین علاج ہے، اس کے ساتھ ساتھ بدہضمی اور پیٹ کے امراض میں بھی نہایت مفید ہے۔
دونوں چیزیں ملا کر ایک چمچ پیسا ہوا گڑ شامل کر لیں۔ یاد رکھیں کہ آپ نے گڑ کو گرائنڈ نہیں کرنا (یعنی پاؤڈر نہیں بنانا) بلکہ اسے پیسنا ہے۔ گڑ میں قدرتی اجزاء کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے، اس کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے۔ گڑ کے استعمال سے مثانے میں موجود ہر قسم کی رکاوٹ دور ہو جاتی ہے، کمزوری کا خاتمہ ہوتا ہے۔ گڑ بھی بار بار پیشاب آنے کو روکتا ہے۔ اس کے استعمال سے ان شاء اللہ مثانہ بہت مضبوط ہو جائے گا۔
اب چمچ کی مدد سے یہ تمام اجزاء اچھی طرح مکس کر لیں تاکہ یہ بہترین دوا تیار ہو سکے، اور اسے کسی صاف شیشے کی چھوٹی سی بوتل میں محفوظ کر کے اپنے پاس رکھ لیں۔
روزانہ رات کو سونے سے قبل اس mixture کا آدھا چمچ پانی کے ساتھ کھا لیں۔ اس کے بعد آپ نے کچھ کھانا پینا نہیں ہے۔
بار بار پیشاب آنے سے پریشان مرد و خواتین! اس نسخے کو ایک ہفتہ تک استعمال کریں، ان شاء اللہ بہت فائدہ ہوگا۔
چند احتیاطی تدابیر:
پیشاب کو زیادہ دیر تک روکنا بیماریاں پھیلانے والے جراثیموں کو جمع ہونے کا موقع دیتا ہے، جس کا نتیجہ انفیکشن کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
ہمیشہ سوتی کے بنے ہوئے انڈر گارمنٹس استعمال کریں جو آپ کو تازہ اور خشک رکھیں گے۔
کیفین والی اشیاء کا استعمال کم کر دیں۔
ڈاکٹر کی تجویز کے بغیر کوئی درد کش دوا نہ لیں۔
ہمیشہ پاکیزہ زندگی گزارتے ہوئے صحت و صفائی کے اصولوں کو مدنظر رکھیں۔
اگر آپ خود یا آپ کا ساتھی کسی انفیکشن میں مبتلا ہو تو ازدواجی تعلقات سے پہلے اس کا ازالہ ضروری ہے۔ تعلقات کے بعد مثانے کو خالی کریں اور تولیدی اعضاء کو دھو لیں۔
اللہ تعالیٰ سب کو صحت و عافیت سے نوازے۔ آمین

Comments
Post a Comment