دنیا کے مختلف معاشروں میں جب اخلاقی زوال اور انسانی قدروں کی پامالی عروج پر پہنچ جاتی ہے تو اسے ایک ایسی صورتحال کہا جاتا ہے جو کسی بھی قوم کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ آج ہمارا معاشرہ بھی انہی حالات سے گزر رہا ہے جہاں برائی کو چھپانے کے بجائے عام کر دیا گیا ہے، اور نیکی کو کمزور یا کم فہم سمجھا جانے لگا ہے۔ حالیہ دنوں میں لاہور سے سامنے آنے والا افسوسناک واقعہ، جس نے ہر حساس دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا،
اسی اخلاقی انحطاط کی ایک واضح علامت ہے۔ یہ واقعہ ہمیں اس بات پر سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہماری نئی نسل کہاں جا رہی ہے اور ہم نے بطور معاشرہ کہاں غلطی کی ہے۔
خاندانی نظام کا بگاڑ — المیہ کی جڑ
خاندانی نظام کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ اگر خاندان مضبوط ہو، تو معاشرہ خود بخود محفوظ ہو جاتا ہے۔ مگر جب ماں باپ اپنی اولاد کے لیے مثال بننے کے بجائے خود برائی کی راہ دکھانے لگیں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ پوری قوم کے زوال کا آغاز ہے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج والدین اور اولاد کے درمیان اعتماد، تربیت اور محبت کا رشتہ کمزور ہو گیا ہے۔ تربیت کی جگہ موبائل فون اور سوشل میڈیا نے لے لی ہے، جہاں اخلاقیات کے بجائے بے راہ روی، فحاشی اور خود غرضی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
دینی تعلیمات اور معاشرتی اصلاح کی ضرورت
اسلام نے خاندان کو مقدس رشتہ قرار دیا ہے۔ ماں کا درجہ جنت کے برابر بتایا گیا ہے، جبکہ والدین کی عزت و اطاعت کو عبادت سمجھا گیا ہے۔ قرآن و حدیث میں بار بار تنبیہ کی گئی ہے کہ جب انسان حدودِ الٰہی کو توڑتا ہے، تو اس کے اثرات صرف اس پر نہیں بلکہ پوری امت پر پڑتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ’’جب تم برائی کو عام دیکھو اور اس کے خلاف آواز نہ اٹھاؤ، تو عذابِ الٰہی تم سب پر نازل ہوگا۔‘‘ آج یہی وقت ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنی اصلاح کریں۔ دینی تعلیمات کو زندگی کا حصہ بنائیں، اور اپنی اولاد کو وقت اور محبت دیں تاکہ وہ غلط راستے پر نہ جائیں۔
سوشل میڈیا کا کردار
سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ یہ معلومات پہنچانے کے ساتھ ساتھ معاشرے پر اثر انداز بھی ہوتا ہے۔ مگر جب اس کا غلط استعمال ہو تو یہ اخلاقی تباہی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ فحاشی، غیر اخلاقی ویڈیوز، اور غلط اقدار کی ترویج نے نوجوانوں کے ذہنوں کو متاثر کیا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین اپنی اولاد کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں، انہیں دینی اور اخلاقی حدود سمجھائیں، اور سوشل میڈیا کو صرف علم و آگاہی کے لیے استعمال کرنے کی ترغیب دیں۔
قانونی اور سماجی اقدامات
حکومت اور معاشرتی اداروں کو چاہیے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت قوانین پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔ ساتھ ہی معاشرتی آگاہی کے پروگرام، والدین کے لیے تربیتی ورکشاپس، اور مذہبی رہنماؤں کے ذریعے اصلاحی مہمات چلائی جائیں۔
ہر محلے، ہر اسکول، ہر مسجد میں اخلاقی تربیت کا نظام فعال کیا جائے تاکہ بچوں میں حلال و حرام، اچھائی و برائی کی تمیز پیدا ہو۔
معاشرتی بیداری — ایک اجتماعی ذمہ داری
یہ صرف حکومت یا علما کا نہیں بلکہ ہم سب کا فرض ہے کہ اپنی برادری، اپنے خاندان اور اپنے ماحول میں اصلاح کی کوشش کریں۔ جب ایک فرد اپنی ذات سے تبدیلی شروع کرتا ہے، تو وہ تبدیلی پورے معاشرے میں پھیلتی ہے۔ ہمیں اپنی نسلوں کے مستقبل کو بچانے کے لیے ابھی سے قدم اٹھانا ہوگا۔
ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ برائی کو چھپانا نہیں بلکہ اس کے خلاف آواز اٹھانا ایک نیکی ہے، مگر اس آواز کو نفرت یا انتقام کے بجائے اصلاح اور ہمدردی کی نیت سے بلند کیا جانا چاہیے۔
اختتامی کلمات
یہ افسوسناک واقعات صرف ایک خبر نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی زوال کی نشانی ہیں۔ یہ ہمیں متنبہ کرتے ہیں کہ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں تو شاید وہ وقت دور نہیں جب برائی عام اور نیکی نایاب ہو جائے گی۔ ہمیں اپنے دین، اپنی روایات، اور اپنی تہذیبی اقدار کو پھر سے زندہ کرنا ہوگا تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک محفوظ اور پر سکون معاشرہ دیکھ سکیں۔

Comments
Post a Comment