18 سالہ لڑکی کی 65 سالہ مرد سے شادی! سوشل میڈیا پر ہنگامہ


 

محبت کسی عمر، ذات یا حیثیت کی محتاج نہیں ہوتی — یہ بات ایک بار پھر سچ ثابت ہوگئی جب 18 سالہ نائلہ نے اپنی مرضی سے 65 سالہ سلمان سے شادی کرلی۔ یہ خبر سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، اور ہر کوئی یہی پوچھ رہا ہے: آخر نائلہ نے ایسا فیصلہ کیوں کیا؟

نائلہ ایک زندہ دل، خودمختار اور اپنے خیالات پر قائم رہنے والی لڑکی ہے۔ اس نے اپنی زندگی کے فیصلے ہمیشہ خود کیے، اور شادی کے معاملے میں بھی وہ کسی دباؤ کے آگے نہیں جھکی۔ دوسری طرف سلمان، ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم، جس نے اپنی زندگی میں بہت کچھ دیکھا — کامیابیاں، تنہائی، اور وقت کا بدلتا رنگ۔ شاید یہی تجربہ اور نرمی نائلہ کے دل کو بھا گئی۔

کچھ لوگ اسے "سچا عشق" کہہ رہے ہیں تو کچھ طنز کے تیر چلا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر تبصروں کی بھرمار ہے — کوئی کہتا ہے "یہ تو پیسوں کی شادی ہے"، تو کوئی کہتا ہے "محبت عمر نہیں دیکھتی"۔ مگر نائلہ اور سلمان دونوں اس شور سے بے خبر، اپنے فیصلے پر مطمئن نظر آتے ہیں۔

نائلہ کا کہنا ہے: “میں نے سلمان کو اس کی عمر نہیں، اس کے دل سے پسند کیا۔ جب سب نے میرا مذاق اڑایا، وہی سلمان تھا جس نے میرا ساتھ دیا۔”

دوسری جانب سلمان نے مسکرا کر کہا: “میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ بڑھاپے میں بھی کوئی میرا ہاتھ تھامے گا۔ نائلہ نے زندگی لوٹا دی۔”

یہ جوڑی شاید عام نہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ محبت کی اپنی منطق ہوتی ہے۔ معاشرہ اکثر ایسی کہانیوں کو ہضم نہیں کر پاتا، کیونکہ ہم نے محبت کو عمر، رشتے اور ظاہری معیاروں میں قید کر دیا ہے۔ مگر نائلہ اور سلمان نے وہ دیوار توڑ دی — انہوں نے ثابت کیا کہ دل اگر سچا ہو تو سالوں کا فرق مٹ جاتا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ وقت ان دونوں کے فیصلے کو کس رنگ میں ڈھالتا ہے۔ کیا یہ محبت عمر بھر قائم رہے گی، یا معاشرتی دباؤ اسے کمزور کرے گا؟ فی الحال تو ان کی کہانی ہر اس شخص کے لیے سبق ہے جو محبت کو صرف نوجوانی سے جوڑتا ہے۔

نائلہ اور سلمان کی کہانی نے ایک سوال چھوڑا ہے — کیا ہم واقعی دل کی سنتے ہیں، یا دنیا کے شور میں اپنی محبت کو دفن کر دیتے ہیں؟

Comments