کمیٹی ڈالنا کیوں حرام ہے، کمیٹی ڈالنے سے پہلے نبی پاک کا فرمان سن لیں جس نے بھی کلمہ طیبہ پڑھا ہے اس کی ذمہ داری ہے کہ اللہ تعالی اور رسول اللہ ﷺ کی مکمل اطاعت کرے اور ان کاموں سے۔ اجتناب کرے جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا۔
اللہ تعالی نے مسلمانوں کیلئے ایسی حدود قائم کی ہیں۔ جن میں رہ کر زندگی گزارنا اس کیلئے لازم ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن و حدیث کے ذریعے انسان کو یہ بتا دیا ہے کہ اس کیلئے کیا جائز ہے اور کیا نا جائز۔ اس کیلئے کیا حلال ہے اور کیا حرام ہے ؟ اور حرام کے بارے میں فرمادیا گیا کہ حرام کا ایک لقمہ بھی کسی کے پیٹ میں چلا گیا تو اس کی چالیس دن تک عبادت قبول نہیں ہوتی۔
آج کا مسلمان خن۔ زیر کے گوشت سے تو کراہیت محسوس کرتا اس کو حرام جانتا ہے۔ لیکن اپنی زندگی میں یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا کہ کیا وہ پیسے کی لالچ میں جو طریقہ اختیار کرتا ہے آیادہ حلال ہے یا حرام جس شخص کی کمائی حرام ہو گی تو اس کی اولاد نا فرمان ہوتی ہے۔
آج اگر ہم اپنے معاشرے میں مشاہدہ کریں تو اکثر والدین کو شکایت ہے کہ ان کی اولاد نا فرمان ہے۔ اسی لیے چاہیے کہ ہم اپنی کمائی کے طریقوں پر نظر ثانی کریں اور حرام سے اپنے آپ کو بچائیں۔
آج ہم ایک اہم مسئلہ کے بارے میں بتائیں گے جو معاشرے میں عام ہے ہمارے محلے بازاروں میں کچھ لوگ مل کر کمیٹی ڈالتے ہیں ایک مختص رقم ہر ماہ ممبر کو جمع کروانی پڑتی ہے۔ اور مہینہ کے آخر میں اکٹھی رقم ایک ہی شخص کو مل جاتی ہے۔
سوچنے کی بات ہے کہ ہم کمیٹی ڈالتے ہیں یہ جائز ہے یا نا جائز فقہاء کا اس بارے میں کیا کہنا ہے۔ کمیٹی کے ذریعے مالی مدد کا حصول ممکن بناتا کوئی عمل نہیں بلکہ بہت پرانہ طریقہ ہے۔
آپ کو بتاتے چلیں وقت کیساتھ کمیٹی کے طریقوں میں کچھ نئے طریقے رواج پکڑ چکے ہیں۔ کسی کمیٹی کو لکی کمیٹی کا نام دیا جاتا ہے۔ اور کسی کمیٹی کو بولی کمیٹی کہا جارہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کمیٹی ڈالنے کی اجازت دیتا ہے یا نہیں؟
کمیٹی کا کونسا طریقہ جائز ہے اور کو نسا طریقہ ناجائز ہے۔ ایک خاتون سائل کی جانب سے کمیٹی ڈالنے کی شرعی حیثیت کے بارے میں پوچھا گیا تو مفتی صاحب نے یوں وضاحت فرمائی کمیٹیاں اس طرح ڈالی جائیں کہ اگر ممبران کو اپنی باری آنے پر رقم ملے اور شروع سے آخر تک ممبران کمیٹیاں بھرتے رہیں تو ایسی صورت میں یہ عمل جائز ہو گا۔
مزید وضاحت کرتے ہوئے ان مفتی صاحب نے کہا کہ عمومی طور پر لوگ اپنی بڑی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے کمیٹیاں ڈالتے ہیں جس میں ممبر ان کی مخصوص تعداد مقررہ ہر ماہ رقم جمع کرواتی ہے یوں ایک رقم اکٹھی ہو جاتی ہے۔ جو قرعہ اندازی کر کے ایک رکن کو دے دی جاتی ہے۔ تاہم قرعہ اندازی میں نا آنے والا ممبر بھی کمیٹی ختم ہونے تک اپنا ماہانہ کمیٹی بھرتارہتا ہے یہ تمام معاملہ باہمی رضا مندی سے طے ہوتے ہیں

Comments
Post a Comment